| کراماتِ صحابہ |
کے اوپر اتر رہی ہے ۔ آپ نے اس منظر سے گھبراکر قرأت موقوف کردی اور صبح کو جب بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا تو رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تیری قرأت کی و جہ سے آسمان سے تیرے مکان کی طرف اتر پڑی تھی اگر تو صبح تک تلاوت کرتا رہتا تو یہ فرشتے زمین سے اس قدر قریب ہوجاتے کہ تمام انسانوں کو ان کا دیدارہوجاتا۔ (1) (دلائل النبوۃ ، ج۳،ص۲۰۵ومشکوۃ شریف،ص۱۸۴فضائل قرآن)
تبصرہ
اس روایت سے ثابت ہوتاہے کہ خدا کے نیک بندوں کی تلاوت سننے کے لیے آسمان سے فرشتوں کی جماعت زمین کی طرف اترتی ہے ۔ یہ اوربات ہے کہ عام لوگ فرشتوں کو دیکھ نہیں سکتے مگر اللہ والوں میں سے کچھ خاص خاص لوگوں کو فرشتوں کا دیدار بھی نصیب ہوجاتاہے بلکہ وہ فرشتوں سے گفتگوبھی کرلیتے ہیں ۔
(۲۰)حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت عبداللہ بن ہشام بن عثمان بن عمروقریشی ، یہ قبیلہ قریش میں خاندان بنی تیم سے تعلق رکھتے ہیں ۴ھ میں پیدا ہوئے یہ مشہور محدث حضرت زہرہ بن معبد کے دادا ہیں ۔ اہل حجاز کے محدثین میں ان کا شمار ہوتاہے اور ان کے شاگردوں میں ان کے پوتے زہرہ بن معبد بہت مشہور ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچپن ہی میں ان کی والدہ حضرت زینب بنت حمید حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں اورعرض کیا: یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب فضائل القرآن، الفصل الاول، الحدیث:۲۱۱۶،ج۱،ص۳۹۸