| کراماتِ صحابہ |
جنگ رہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو یمن کا قاضی اورمعلم بنا کر بھیجا تھا اورحضرت امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو ملک شام کا گورنربھی مقرر کردیا تھا جہاں انہوں نے ۱۸ ھ میں طاعونِ عمواس میں علیل ہوکر اڑتیس سال کی عمرمیں وفات پائی ۔آپ بہت ہی بلند پایہ عالم ، حافظ ، قاری، معلم اور نہایت ہی متقی وپرہیز گار اور اعلی درجے کے عبادت گزار تھے ۔ بنی سلمہ کے تمام بتوں کو انہوں نے ہی توڑ پھوڑ کر پھینک دیا تھا۔ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں ان کا لقب''امام العلماء ''ہے ۔(1) (اکمال ،ص۶۱۶واسدالغابہ، ج۴،ص۳۷۸)
کرامت منہ سے نور نکلتا تھا
حضرت ابو بحریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ''حمص''کی مسجد میں دیکھا وہ گھنے او رگھونگھریالے بال والے بہت خوبصورت تھے جب وہ گفتگوفرماتے تو ان کے ساتھ ساتھ ان کے منہ سے ایک نور نکلتا جس کی روشنی اور چمک صاف نظر آتی ۔ (2)(تذکرۃ الحفاظ،ج۱،ص۲۰)
(۱۹) حضرت اسیدبن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنی عبد الاشہل سے خاندانی تعلق رکھتے ہیں ۔ مدینہ منورہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف المیم، فصل فی الصحابۃ، ص۶۱۶ واسد الغابۃ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، ج۵، ص۲۰۶ ملتقطاً 2۔۔۔۔۔۔تذکرۃ الحفاظ، الطبقۃ الاولیٰ، معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس...الخ،ج۱،الجزء۱،ص۲۰