Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
171 - 342
ان کی قبر میں سے تلاوت کی اتنی بہترین آواز سنی کہ اس سے پہلے اتنی اچھی قرأت میں نے کبھی بھی نہیں سنی تھی ۔

    جب میں مدینہ منورہ کو لوٹ کرآیا اورمیں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا اے طلحہ! تم کو یہ معلوم نہیں کہ خدا نے ان شہیدوں کی ارواح کو قبض کر کے زبرجد او ریاقوت کی قندیلوں میں رکھا ہے اور ان قندیلوں کو جنت کے باغوں میں آویزاں فرمادیاہے جب رات ہوتی ہے تو یہ روحیں قندیلوں سے نکال کر ان کے جسموں میں ڈال دی جاتی ہیں پھرصبح کو وہ اپنی جگہوں پر واپس لائی جاتی ہیں ۔(1)(حجۃ اللہ علی العالمین، ج۲،ص۸۷۱بحوالہ ابن مندہ)
تبصرہ
یہ مستند روایات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرا ت شہداء کرام اپنی اپنی قبروں میں پورے لوازم حیات کے ساتھ زندہ ہیں اوروہ اپنے جسموں کے ساتھ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں تلاوت کر سکتے ہیں اور دوسرے قسم قسم کے تصرفات بھی کرسکتے اور کرتے ہیں۔
 (۱۸)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے ۔ یہ قبیلہ خزرج کے انصاری اورمدینہ منورہ کے باشندہ ہیں۔ یہ ان ستر خوش نصیب انصار میں سے ایک ہیں جن لوگوں نے ہجرت سے بہت پہلے میدان عرفات کی گھاٹی میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بیعت اسلام کی تھی ۔ یہ جنگ بدر اوراس کے بعدکے تمام جہادوں میں مجاہدانہ شان سے شریک
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ، ص۶۲۰
Flag Counter