خدا کی شان کہ آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیا اورخون بہہ کر مسجد نبوی میں بنی غفار کے خیمے کے اندرپہنچ گیا۔ ان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو!یہ کیسا خون ہے جو تمہاری طرف سے بہ کر ہماری طرف آرہا ہے؟ جب لوگوں نے دیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون جاری تھا اسی زخم میں ان کی شہادت ہوگئی ۔(1)(بخاری ، ج۲،ص۵۹۱باب مرجع النبی من الاحزاب)
عین وفات کے وقت ان کے سرہانے حضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ جان کنی کے عالم میں انہوں نے آخری بار جمال نبوت کا دیدار کیا اورکہا : السلام علیک یا رسول اللہ! پھر بلند آواز سے کہا کہ یارسول اللہ!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں گواہی دیتاہوں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اورآپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کردیا۔ (2)(مدارج النبوۃ،ج۲،ص۱۸۱)
آپ کا سال وصال ۵ہجری ہے ۔ بوقت وصال آ پ کی عمر شریف ۳۷برس کی تھی ۔ جنت البقیع میں مدفون ہیں ۔ جب حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ان کو دفنا کر واپس آرہے تھے تو شدت غم سے آپ کے آنسوؤں کے قطرات آ پ کی ریش مبارک پرگر رہے تھے۔(3)(اکمال ، ص ۵۹۶واسدالغابہ، ج۲،ص۲۹۸)