Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
164 - 342
بچہ دولت اسلام سے مالا مال ہوگیا۔ اس طرح آپ کا مسلمان ہوجانا مدینہ منورہ میں اشاعت اسلام کے لیے بہت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ (1)

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی بہادر اورانتہائی نشانہ باز تیر انداز بھی تھے ۔ جنگ بدراور جنگ احد میں خوب خوب دادِ شجاعت دی، مگر جنگ خندق میں زخمی ہوگئے اوراسی زخم میں شہادت سے سرفراز ہوگئے ۔ ان کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے نیزہ لیکر جوش جہاد میں لڑنے کے لئے میدان جنگ میں جارہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام ''اکحل''ہے کٹ گئی ۔ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کے ليے مسجدنبوی علی صاحبہاالصلوۃ والسلام میں ایک خیمہ گاڑااوران کا علاج شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے دو مرتبہ ان کے زخم کو داغا اور ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھالیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعامانگی : 

    ''یا اللہ! عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے مجھے جنگ کرنے کی اتنی تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اوران کو ان کے وطن سے نکالا، اے اللہ ! عزوجل میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کردیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہو جب تو مجھے زندہ رکھنا تاکہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جنگ کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو تو میرے اس زخم کو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے شہادت عطافرمادے ۔ ''
1۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، سعد بن معاذ، ج۲، ص۴۴۱
Flag Counter