Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
163 - 342
ضرور ہی آتے ہوں گے ۔ لہٰذا ہر حاجی کو یہ دھیان رکھنا چاہيے کہ حرم کعبہ میں ہرگز ہرگز کسی سے الجھنا نہیں چاہے ۔ خدانخواستہ تم کسی انسان سے جھگڑا تکرارکرو اور وہ حقیقت میں کوئی فرشتہ ہو جو انسان کے روپ میں تکرار کررہا ہو تو پھر یہ سمجھ لو کہ کسی فرشتے سے لڑنے جھگڑنے کا انجام اپنی ہلاکت کے سوااورکیا ہوسکتاہے ؟

    تیسری کرامت سے ظاہر ہے کہ اللہ والوں کی دعائیں اس تیر کی طرح ہوتی ہيں جو کمان سے نکل کر نشانہ سے بال برابر خطا نہیں کرتیں۔اس لئے ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کبھی بھی کسی بد دعا کی زد اورپھٹکار میں نہ پڑیں اورمغرب زدہ ملحدوں اوربے دینوں کی طرح ہرگز ہرگز یہ نہ کہا کریں کہ ''میاں کسی کی دعا یا بد دعا سے کچھ نہیں ہوتا، یہ ملا لوگ خواہ مخواہ لوگوں کو بددعا کی دھونس دیاکرتے ہیں'' بلکہ یہ ایمان رکھیں کہ بزرگوں کی دعاؤں اوربد دعاؤں میں بہت زیادہ تاثیر ہے ۔
 (۱۶) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت سعدبن معاذبن النعمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ مدینہ منورہ کے رہنے والے بہت ہی جلیل القدر صحابی ہیں۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لے جانے سے پہلے ہی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ منورہ بھیج دیا کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم دیں اورغیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں۔ چنانچہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تبلیغ سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دامن اسلام میں آگئے اور خود اسلام قبول کرتے ہی یہ اعلان فرمادیا کہ میرے قبیلہ بنو عبدالاشہل کا جو مرد یا عورت اسلام سے منہ موڑے گا میرے لئے حرام ہے کہ میں اس سے کلام کروں ۔ آپ کا یہ اعلان سنتے ہی قبیلہ بنو عبدالاشہل کا ایک ایک
Flag Counter