ضرور ہی آتے ہوں گے ۔ لہٰذا ہر حاجی کو یہ دھیان رکھنا چاہيے کہ حرم کعبہ میں ہرگز ہرگز کسی سے الجھنا نہیں چاہے ۔ خدانخواستہ تم کسی انسان سے جھگڑا تکرارکرو اور وہ حقیقت میں کوئی فرشتہ ہو جو انسان کے روپ میں تکرار کررہا ہو تو پھر یہ سمجھ لو کہ کسی فرشتے سے لڑنے جھگڑنے کا انجام اپنی ہلاکت کے سوااورکیا ہوسکتاہے ؟
تیسری کرامت سے ظاہر ہے کہ اللہ والوں کی دعائیں اس تیر کی طرح ہوتی ہيں جو کمان سے نکل کر نشانہ سے بال برابر خطا نہیں کرتیں۔اس لئے ہمیشہ اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کبھی بھی کسی بد دعا کی زد اورپھٹکار میں نہ پڑیں اورمغرب زدہ ملحدوں اوربے دینوں کی طرح ہرگز ہرگز یہ نہ کہا کریں کہ ''میاں کسی کی دعا یا بد دعا سے کچھ نہیں ہوتا، یہ ملا لوگ خواہ مخواہ لوگوں کو بددعا کی دھونس دیاکرتے ہیں'' بلکہ یہ ایمان رکھیں کہ بزرگوں کی دعاؤں اوربد دعاؤں میں بہت زیادہ تاثیر ہے ۔