| کراماتِ صحابہ |
مکرمہ اور مدینہ منورہ پر ایسا ظالم حکومت کرے ۔ چنانچہ آپ نے یہ دعا مانگی کہ یااللہ! عزوجل ابن سمیہ (زیاد)کی اس طرح موت ہو جائے کہ اس کے قصاص میں کوئی مسلمان قتل نہ کیا جائے ۔ آپ کی یہ دعا مقبول ہوگئی کہ اچانک زیاد کے انگوٹھے میں طاعون کی گلٹی نکل پڑی اور وہ ایک ہفتہ کے اندر ہی ایڑیاں رگڑ رگڑکر مرگیا۔(1) (ابن عساکروالمنتخب،ج۵،ص۲۳۱)
تبصرہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی کرامت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی حکومت کا سکہ نہ صرف انسانوں ہی کے دلوں پر ہوتاہے بلکہ انکے حاکمانہ تصرفات کا پرچم درندوں، چرندوں ، پرندوں کے دلوں پر بھی لہراتا رہتاہے اور سب کے سب اللہ والوں کے فرمانبردارہوجاتے ہیں۔ یہی وہ مضمون ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے ؎
تو ہم گردن از حکمِ داور مپیچ کہ گردن نہ پیچد زِ حکم تو ہیچ
(یعنی تم خداوند تعالیٰ کے حکم سے گردن نہ موڑوتاکہ کوئی مخلوق تمہارے حکم سے گردن نہ موڑے ۔) مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے فرمانبردار بنے رہوگے توخدا کی تمام مخلوقات تمہاری فرمانبردار بنی رہے گی ۔
دوسری کرامت سے یہ سبق ملتاہے کہ جب کعبہ معظمہ کے طواف کے لیے فرشتے سانپ کی شکل میں آتے ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ فرشتے انسانوں کی شکل میں بھی1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ، سنۃ ثلاث و خمسین، ذکر وفاۃ زیاد، ج۳، ص۳۴۱