| کراماتِ صحابہ |
ایک شیر راستہ میں بیٹھا ہوا تھا اورقافلہ والوں کا راستہ روکے ہوئے تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے قریب جا کر فرمایاکہ راستہ سے الگ ہٹ کر کھڑا ہوجا۔ آپ کی یہ ڈانٹ سن کر شیر دم ہلاتا ہوا راستہ سے دور بھاگ نکلا۔(1)(تفسیر کبیر،ج۵،ص۱۷۹وحجۃ اللہ ،ج۲،ص۸۶۶)
ایک فرشتہ سے ملاقات
حضر ت عطاء بن ابی رباح کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دوپہر کے وقت دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت سانپ نے سات چکر بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ پھر مقام ابراہیم پر دورکعت نماز پڑھی ۔ آپ نے اس سانپ سے فرمایا: اب آپ جب کہ طواف سے فارغ ہوچکے ہيں یہاں پرآپ کا ٹھہرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ میرے شہر کے نادان لوگ آپ کو کچھ ایذا پہنچادیں گے ۔ سانپ نے بغورآپ کے کلام کوسنا پھر اپنی د م کے بل کھڑا ہوگیا اور فوراً ہی اڑکر آسمان پر چلا گیا۔ اس طرح لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ کوئی فرشتہ تھا جو سانپ کی شکل میں طواف کعبہ کے لیے آیا تھا ۔ (2)(دلائل النبوۃ،ج۳،ص۲۰۷)
زیادکیسے ہلاک ہوا؟
زیاد سلطنت بنو امیہ کا بہت ہی ظالم و جابر گورنر تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر ملی کہ وہ حجاز کا گورنربن کر آرہا ہے ۔ آپ کویہ ہر گز ہرگز گوارا نہ تھا کہ مکہ
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولياء...الخ، المطلب الثالث فی ذکر جملۃ جمیلۃ ...الخ،ص۶۱۶ 2۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ لابی نعیم ، اجابۃ الدعوۃ،اذا بصر بحیۃ...الخ،ج۲،ص۱۲۲