Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
160 - 342
بن کر آیا۔ آپ نے خطبہ کے درمیان اس کو ٹوک دیا۔حجاج ظالم نے جل بھن کر اپنے ایک سپاہی کو حکم دے دیا کہ وہ زہر میں بجھایا ہوا نیزہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاؤں میں ماردے چنانچہ اس مردود نے آپ کے پاؤں میں نیزہ مار دیا۔ زہر کے اثر سے آپ کا پاؤں بہت زیادہ پھول گیا اورآپ علیل ہوکر صاحب فراش ہوگئے۔ مکار حجاج بن یوسف آپ کی عیادت کے لیے آیا اورکہنے لگا کہ حضرت !کاش! مجھے معلوم ہوجاتا کہ کس نے آپ کو نیزہ ماراہے ؟آپ نے فرمایا :اس کو جان کر پھر تم کیا کروگے؟ حجاج نے کہا کہ اگر میں اس کو قتل نہ کروں تو خدا مجھے مارڈالے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم کبھی ہرگز ہرگز اس کو قتل نہیں کروگے اس نے تو تمہارے حکم ہی سے ایسا کیا ہے۔ یہ سن کر حجاج بن یوسف کہنے لگا کہ نہیں نہیں ، اے ابو عبدالرحمن! آپ ہرگز ہرگز یہ خیال نہ کریں اورجلدی سے اٹھ کر چل دیا۔ اسی مرض میں ۷۳ ھ؁ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے تین ماہ بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چوراسی یا چھیاسی برس کی عمر پاکر وفات پاگئے اورمکہ معظمہ میں مقام ''محصب'' یا مقام ''ذی طویٰ''میں مدفون ہوئے ۔ (1)

     (اسدالغابہ، ج۳،ص۲۲۹،اکمال ،ص۶۰۵ وتذکرۃ الحفاظ،ج۱،ص۳۵)
کرامات

شیردم ہلاتا ہوا بھاگا
    علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے طبقات میں تحریر فرمایا ہے کہ
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۴- ۶۰۵

واسد الغابۃ، عبداللہ بن عمر بن الخطاب،ج۳، ص۳۴۷-۳۵۱ ملخصاً
Flag Counter