Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
159 - 342
بدل دینابھی ہے۔ مذکورہ بالا دونوں روایات کرامت کی اسی قسم کی مثالیں ہیں کہ اولیاء اللہ جب بھی چاہتے ہیں اپنی روحانی طاقت یا اپنی مستجاب دعاؤں کی بدولت ایک چیز کی حقیقت کو بدل کر اس کو دوسری چیز بنا دیتے ہیں ۔ اولیاء اللہ کی کرامتوں کے تذکروں میں اس کی ہزاروں مثالیں ملیں گی۔
 (۱۵)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    یہ امیر المؤمنین حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ارجمند ہیں۔ ان کی والدہ کا نام زینب بنت مظعون ہے ۔ یہ بچپن ہی میں اپنے والد ماجد کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ یہ علم وفضل کے ساتھ بہت ہی عبادت گزار اورمتقی وپرہیز گار تھے ۔ میمون بن مہران تا بعی کافرمان ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے بڑھ کرکسی کومتقی وپرہیز گار نہیں دیکھا۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے امام ہیں۔ یہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی وفات اقدس کے بعد ساٹھ برس تک حج کے مجمعوں اوردوسرے مواقع پر مسلمانوں کو اسلامی احکام کے بارے میں فتویٰ دیتے رہے۔مزاج میں بہت زیادہ سخاوت کا غلبہ تھا اور بہت زیادہ صدقہ وخیرات کی عادت تھی ۔ اپنی جو چیز پسند آجاتی تھی فوراً  ہی اس کو راہ خدا عزوجل میں خیرات کردیتے تھے ۔ آپ نے اپنی زندگی میں ایک ہزار غلاموں کو خریدخرید کر آزادفرمایا ۔ جنگ خندق اوراس کے بعد کی اسلامی لڑائیوں میں برابر کفار سے جنگ کرتے رہے ۔ ہاں البتہ حضرت علی اورحضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان جو لڑائیاں ہوئیں آپ ان لڑائیوں میں غیر جانبدار رہے۔

    عبدالملک بن مروان کی حکومت کے دوران حجاج بن یوسف ثقفی امیر الحج
Flag Counter