Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
154 - 342
کے ہاتھ میں تھا۔ کفار نے تلوار کی مار سے ان کے دائیں ہاتھ کو شہید کردیا تو انہوں نے جھپٹ کر جھنڈے کو بائیں ہاتھ سے پکڑلیا جب بایاں ہاتھ بھی کٹ کر گرپڑا تو انہوں نے جھنڈے کو دونوں کٹے ہوئے بازوؤں سے تھام لیا۔

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے فرمایا: جب ہم نے ان کی لاش مبارک کو اٹھایا تو ان کے جسم اطہر پر نوے زخم تھے مگر کوئی زخم بھی ان کے بدن کے پچھلے حصے پر نہیں لگاتھابلکہ تمام زخم ان کے بدن کے اگلے ہی حصہ پر تھے ۔ (1)
 (اکمال صفحہ۵۸۹وحواشی بخاری وغیرہ)
کرامت 

ذُوالْجَنَاحَیْن
  ان کا ایک لقب ''ذوالجناحین ''(دوبازوؤں والا)ہے ۔ دوسرالقب طیار (اُڑنے والا)ہے ۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کی یہ کرامت بیان فرمائی ہے کہ ان کے کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دوپر عطافرمائے ہیں اوریہ جنت کے باغوں میں جہاں چاہتے ہیں اڑکر چلے جاتے ہیں ۔ (2)
تبصرہ
    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی کرامت کو بیان کرتے ہوئے امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فخریہ اندازمیں یہ شعر ارشادفرمایا ہے ؎
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف الجیم، فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۹ ملخصاً

والاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جعفربن ابی طالب،ج۱، ص۳۱۳ ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جعفربن ابی طالب،ج۱، ص۳۱۳
Flag Counter