آپ تین سو مجاہدین اسلام کے لشکر پر سپہ سالار بن کر ''سیف البحر''میں جہاد کے ليے تشریف لے گئے ۔ وہاں فوج کا راشن ختم ہوگیا یہاں تک کہ یہ چوبیس چوبیس گھنٹے میں ایک ایک کھجور بطور راشن کے مجاہدین کو دینے لگے ۔ پھر وہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں ۔ اب بھکمری کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس موقع پر آپ کی یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ اچانک سمندر کی طوفانی موجوں نے ساحل پر ایک بہت بڑی مچھلی کو پھینک دیا اور اس مچھلی کو یہ تین سو مجاہدین کی فوج اٹھارہ دنوں تک شکم سیر ہوکر کھاتی رہی اوراس کی چربی کو اپنے جسموں پر ملتی رہی یہاں تک کہ سب لوگ تندرست اورخوب فربہ ہوگئے ۔ پھر چلتے وقت اس مچھلی کا کچھ حصہ کاٹ کر اپنے ساتھ لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی اس مچھلی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ،ص۶۰۸ ملخصاً
والریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب العا شرفی مناقب ابی عبیدۃ بن الجراح،
الفصل الاول فی نسبہ،ج۲، ص۳۴۵ والفصل الرابع فی اسلامہ،ج۲،ص۳۴۶