Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
145 - 342
جس کو آپ نے تناول فرمایا اورارشادفرمایا کہ اس مچھلی کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا رزق بنا کر بھیج دیا۔ یہ مچھلی کتنی بڑی تھی لوگوں کو اس کا اندازہ بتانے کے لیے امیرلشکر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ اس مچھلی کی دو پسلیوں کو زمین میں گاڑدیں۔ چنانچہ دونوں پسلیاں زمین پر گاڑدی گئیں تو اتنی بڑی محراب بن گئی کہ اس کے نیچے سے کجا وہ بندھا ہوا اونٹ گزرگیا۔(1)(بخاری شریف ، ج۲،ص۶۲۶باب غزو ۂ سیف البحر)
تبصرہ
    ایسے وقت میں جب کہ لشکر میں خوراک کا ساراسامان ختم ہوچکا تھا اورلشکر کے سپاہیوں کے لیے بھکمری کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا بالکل ہی ناگہاں بغیر کسی محنت و مشقت کے اس مچھلی کا خشکی میں مل جانا اس کو کرامت کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے ۔ پھر اتنی بڑی مچھلی کہ تین سو بھوکے سپاہیوں نے اس مچھلی کو کاٹ کاٹ کر اٹھارہ دنوں تک خوب خوب شکم سیر ہوکر کھایا ۔ یہ ایک دوسری کرامت ہے کیونکہ اتنی بڑی مچھلی بہت ہی نادر الوجود ہے کہ اتنا بڑا لشکر اس کو اتنے دنوں تک کھاتا رہے اورپھر اس کے ٹکڑوں کو کاٹ کاٹ کر اونٹوں پر لادکر مدینہ منورہ تک لے جائے مگر پھر بھی مچھلی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا کچھ حصہ لوگ چھوڑ کر چلے گئے ۔ اتنی بڑی مچھلی کا وجود دنیا میں بہت ہی کمیاب ہے ۔ پھر مچھلی ایک ایسی چیز ہے کہ مرنے کے بعد دوچار دنوں میں سڑگل کر اورپانی بن کر بہ جاتی ہے مگر عادت جاریہ کے خلاف مہینوں تک یہ مری ہوئی مچھلی زمین پر دھوپ میں پڑی رہی پھر بھی بالکل تازہ رہی نہ اس میں بدبو پیداہوئی نہ اس کا مزہ تبدیل ہوا یہ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ سیف البحر...الخ، الحدیث:۴۳۶۰، 

۴۳۶۱،ج۳،ص۱۲۷
Flag Counter