Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
138 - 342
خشکی پر ہے اسی طرح دریاؤں پر بھی ان کی حکومت کا سکہ چلتا ہے ۔ کاش !وہ بد عقیدہ لوگ جو اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے ادب واحترام سے محروم اوران بزرگوں کی خدا داد طاقتوں اوران کے تصرفات کی قدرتوں کے منکر ہیں ان روایات کو بغور پڑھتے اور ان روشنی کے میناروں سے ہدایت کا نور حاصل کرتے ۔ 

    ڈاکٹر محمد اقبال نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسی کرامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی نظم میں یہ شعرلکھا ہے :
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
نعرۂ تکبیرسے زلزلہ
    جنگ قادسیہ میں فتح حاصل ہوجانے کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ''حمص''پرچڑھائی کی یہ رومیوں کا بہت ہی مضبوط قلعہ تھا۔ بادشاہ روم نے اس شہر کی حفاظت کے لیے بہت ہی زبردست فوج بھیجی تھی مگر جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شہر کے قریب پہنچے تو آپ نے اپنے لشکرکو حکم فرمایا:
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
کا بلند آواز سے نعرہ ماریں چنانچہ جب پوری فوج نے ایک ساتھ نعرہ ماراتو اس شہر میں اس زور کا زلزلہ آگیا کہ تمام عمارتیں ہلنے لگیں ۔ پھر دوسری مرتبہ نعرہ مارا تو قلعہ اورشہر کی دیواریں گرنے لگیں اوررومی فوج پر ایسی دہشت سوار ہوگئی کہ وہ ہتھیار بھی نہ اٹھا سکی بلکہ ایک گراں قدر رقم بطور جزیہ کے دے کر رومیوں نے مسلمانوں سے صلح کرلی۔ (1)
 (ازالۃ الخفاء، مقصد۲،ص۵۹)
1۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم،امامآثرفاروق اعظم، ج۳، ص۲۱۳
Flag Counter