Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
137 - 342
بندوں کی دعائیں ملتی رہیں کیونکہ نیک بندوں کی بدعائیں بربادی کا خوفناک سگنل اور ان کی دعائیں آبادی کا شیریں پھل ہیں ۔
ساٹھ ہزار کا لشکر دریا میں
    جنگ فارس میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار تھے ۔ دوران سفر راستہ میں دریائے دجلہ کو پار کرنے کی ضرو رت پیش آگئی اور کشتیاں موجود نہیں تھیں ۔ آپ نے لشکر کو دریا میں چل دینے کا حکم دے دیا اورخود سب سے آگے آگے آپ یہ دعا پڑھتے ہوئے دریا پر چلنے لگے
'' نَسْتَعِیْنُ بِاللہِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَحَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ''
لوگ آپس میں بلا جھجک ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے گھوڑوں والے گھوڑوں پر سوار، اونٹوں والے اونٹوں پر سوار، پیدل چلنے والے پاپیادہ اپنے اپنے سامانوں کے ساتھ دریا پر اس طرح چلنے لگے جس طرح میدانوں میں قافلے گزرتے رہتے ہیں۔ عثمان نہدی تابعی کا بیان ہے کہ اس موقع پر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیالہ دریا میں گر پڑا تو دریا کی موجوں نے اس پیالہ کو کنارے پر پہنچا دیا اوران کو ان کا پیالہ مل گیا۔ا س لشکر کی تعداد ساٹھ ہزار پاپیادہ اورسوار کی تھی ۔ (1)(دلائل النبوۃ، ج۳،ص۲۰۹ وطبری ،ج۴،ص۱۷۱)
تبصرہ
    یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ دریا بھی اولیاء اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے احکام کا فرماں بردار ہے اوران اللہ والوں کی حکومت خداوند قدوس کی عطا سے جس طرح
1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل التاسع و العشرون، عبور سعد بن ابی وقاص بعسکر ہ...الخ، ج۲،ص۱۳۲۔۱۳۴ملخصاً
Flag Counter