لوگ آپس میں بلا جھجک ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے گھوڑوں والے گھوڑوں پر سوار، اونٹوں والے اونٹوں پر سوار، پیدل چلنے والے پاپیادہ اپنے اپنے سامانوں کے ساتھ دریا پر اس طرح چلنے لگے جس طرح میدانوں میں قافلے گزرتے رہتے ہیں۔ عثمان نہدی تابعی کا بیان ہے کہ اس موقع پر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیالہ دریا میں گر پڑا تو دریا کی موجوں نے اس پیالہ کو کنارے پر پہنچا دیا اوران کو ان کا پیالہ مل گیا۔ا س لشکر کی تعداد ساٹھ ہزار پاپیادہ اورسوار کی تھی ۔ (1)(دلائل النبوۃ، ج۳،ص۲۰۹ وطبری ،ج۴،ص۱۷۱)
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ دریا بھی اولیاء اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے احکام کا فرماں بردار ہے اوران اللہ والوں کی حکومت خداوند قدوس کی عطا سے جس طرح
1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل التاسع و العشرون، عبور سعد بن ابی وقاص بعسکر ہ...الخ، ج۲،ص۱۳۲۔۱۳۴ملخصاً