Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
139 - 342
تبصرہ
    کلمہ طیبہ اورتکبیرکا نعرہ ہر شخص لگا سکتاہے مگر تجربہ یہ ہے کہ اگر اس زمانے کے لاکھوں مسلمان بھی ایک ساتھ مل کر یہ نعرہ ماریں تو گھاس کا ایک پتہ اوربھس کا ایک تنکا بھی نہیں ہل سکتامگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس نعرہ سے پتھروں کی چٹانوں سے بنے ہوئے محلات اورقلعے چکنا چورہوکر زمین پر بکھرگئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کلمہ تکبیرکے الفاظ ومعانی میں تو ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہے لیکن اللہ والوں کی زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں اورہماری زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ کہاں وہ اللہ عزوجل کے نیک اورپاکبازبندے؟اورکہاں ہم دلوں کے میلے اور زبانوں کے گندے ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ ایک ہی آیت ، ایک ہی دعا ، ایک اللہ والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اور ہوتی ہے اور ایک گناہوں والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اورہوتی ہے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے ؎
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں 

کرگس کا جہاں اورہے شاہیں کا جہاں اور 

الفاظ ومعانی میں تفاوت نہیں لیکن

ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور

                         (بال جبریل)
    بہر حال اس نکتہ سے ہرگز ہرگز غافل نہیں رہنا چاہے کہ اولیاء کرام اورعام انسانوں میں بہت بڑا فرق ہے جو لوگ صرف پانچ وقت نماز پڑھ کر اولیاء کرام کے
Flag Counter