کلمہ طیبہ اورتکبیرکا نعرہ ہر شخص لگا سکتاہے مگر تجربہ یہ ہے کہ اگر اس زمانے کے لاکھوں مسلمان بھی ایک ساتھ مل کر یہ نعرہ ماریں تو گھاس کا ایک پتہ اوربھس کا ایک تنکا بھی نہیں ہل سکتامگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس نعرہ سے پتھروں کی چٹانوں سے بنے ہوئے محلات اورقلعے چکنا چورہوکر زمین پر بکھرگئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کلمہ تکبیرکے الفاظ ومعانی میں تو ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہے لیکن اللہ والوں کی زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں اورہماری زبانوں ، آوازوں اورلہجوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ کہاں وہ اللہ عزوجل کے نیک اورپاکبازبندے؟اورکہاں ہم دلوں کے میلے اور زبانوں کے گندے ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ ایک ہی آیت ، ایک ہی دعا ، ایک اللہ والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اور ہوتی ہے اور ایک گناہوں والا پڑھ دے تو اس کی تاثیر کچھ اورہوتی ہے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے ؎