Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
136 - 342
اقدس سے اس دعا کا نکلناتھاکہ اس مردود کا گھوڑا بدک گیا اور وہ پتھروں کے ڈھیر میں منہ کے بل گرپڑا اوراس کا سر پاش پاش ہوگیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔(1)
 (حجۃ اللہ علی العالمین،ج۲،ص۸۶۶بحوالہ حاکم)
تبصرہ
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا ان پانچ کرامتوں سے ہم کو دو سبق ملتے ہیں:

اول: یہ کہ محبوبان بارگاہ الٰہی یعنی انبیاء علیہم الصلوۃ السلام وصدیقین اورشہداء کرام و صالحین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کی شان میں ادنی درجے کی بد دعائیں بہت ہی خطرناک اور ہلاکت آفریں بلائیں ہیں۔ ان بزرگوں کی بد دعا اور پھٹکار اوران کی شان میں گستاخی اوربے ادبی یہ قہر الٰہی کا سگنل ہے ۔ ان خدا کے مقدس اورمحبوب بندوں کی ذرا سی بھی بے ادبی کو خداوند قدوس کی شان قہار ی وجباری معاف نہیں فرماتی بلکہ ضرور ان گستاخوں کو دونوں جہان کے عذاب میں گرفتار کردیتی ہے ۔ 

دوم : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں علماء، اولیاء اور تمام صالحین کی بد دعائیں بہت ہی خطرناک اورہلاکت آفریں بلائیں ہیں ۔ ان بزرگوں کی بد دعا اورپھٹکار وہ تلوار ہے جس کی کوئی ڈھال نہیں اوریہ تباہی وبربادی کا وہ زہر آلود تیر ہے جس کا نشانہ کبھی خطا نہیں کرتا لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زندگی بھر ہر ہر قدم پر یہ دھیا ن رکھے کہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی شان میں ذرہ بھر بھی بے ادبی نہ ہونے پائے اور بزرگان دین میں سے کسی کی بھی بد دعا نہ لے بلکہ ہمیشہ اس کو شش میں لگا رہے کہ خدا عزوجل کے نیک
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۶
Flag Counter