Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
130 - 342
 (۸) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    ان کی کنیت ابو اسحاق ہے اور خاندان قریش کے ایک بہت ہی نامور شخص ہيں جو مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں ۔ یہ ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں جبکہ ابھی ان کی عمر سترہ برس کی تھی دامن اسلام میں آگئے اورحضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام معرکوں میں حاضر رہے ۔ یہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کفار پر تیرچلا یا اور ہم لوگوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رہ کر اس حال میں جہاد کیا کہ ہم لوگوں کے پاس سوائے ببول کے پتوں اور ببول کی پھلیوں کے کوئی کھانے کی چیز نہ تھی ۔ (1) (مشکوٰۃ ،ج۲،ص۵۶۷)

    حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے خاص طور پر ان کے لئے یہ دعا فرمائی:
''اَللّٰھُمَّ سَدِّدْ سَھْمَہٗ وَاَجِبْ دَعْوَتَہٗ ''
(2)(اے اللہ! عزوجل ان کے تیر کے نشانہ کو درست فرمادے اوران کی دعا کو مقبول فرما)
    خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی یہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا پھر اس عہدہ سے معزول کردیا اور یہ برابر جہادوں میں کفار سے کبھی سپاہی بن کر اورکبھی اسلامی لشکر کے سپہ سالار بن کر لڑتے رہے ۔ جب حضرت عثمان غنی رضی
۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۶ ملتقطاً

ومعرفۃ الصحابۃ، معرفۃ سعد بن ابی وقاص...الخ، الحدیث:۵۲۵،ج۱،ص۱۴۵

2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، سعد بن ابی وقاص...الخ، الحدیث: 

۳۶۶۴۰، ج۷،الجزء۱۳،ص۹۲
Flag Counter