(یعنی میری امت کے مال داروں میں سب سے پہلے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت میں داخل ہوں گے ۔)(2) (کنزالعمال،ج۱۲،ص۲۹۳)
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ بے ہوش ہوگئے اورکچھ دیر بعد جب وہ ہوش میں آئے تو فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس دو بہت ہی خوفناک فرشتے آئے اورمجھ سے کہا کہ تم اس خدا کے دربار میں چلو جو عزیزوامین ہے ۔ اتنے میں ایک دوسرا فرشتہ آگیا اور اس نے کہا کہ ان کو چھوڑدو یہ تو جب اپنی ماں کے شکم میں تھے اسی وقت سے سعادت آگے بڑھ کر ان سے وابستہ ہوچکی ہے ۔ (3)(کنزالعمال،ج۱۵،ص۲۰۳مطبوعہ حیدرآباد)
1۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب الثالث فی مناقب امیر المؤمنین عثمان بن عفان، الفصل العا شر فی خلافتہ و ما یتعلق بھا ، ذکر حدیث الشوری، ج۲، ص۵۳ -
۵۵ملتقطاً
2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل، ذکر الصحابۃ وفضلہم ، عبدالرحمن بن عوف، الحدیث: ۳۳۴۹۵، ج۶، الجزء۱۱،ص۳۲۸
3۔۔۔۔۔۔کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الحدیث:۳۶۶۸۵،ج۷،الجزء۱۳،ص۹۹