اللہ تعالیٰ عنہ امیر المؤمنین ہوئے تو انہوں نے دوبارہ انہیں کوفہ کا گورنر بنادیا۔ یہ مدینہ منورہ کے قریب مقام ''عقیق ''میں اپنا ایک گھر بنا کر اس میں رہتے تھے اور ۵۵ھ میں جبکہ ان کی عمر شریف پچھتّر برس کی تھی اسی مکان کے اندر وصال فرمایا۔ آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے کفن میں میرا اون کا وہ پراناجبہ ضرورپہنایا جائے جس کو پہن کر میں نے جنگ بدرمیں کفار سے جہاد کیا تھا چنانچہ وہ جبہ آپ کے کفن میں شامل کیا گیا ۔ لوگ فرط عقیدت سے آپ کے جنازے کو کندھوں پر اٹھا کر مقام ''عقیق'' سے مدینہ منورہ لائے اور حاکم مدینہ مروان بن الحکم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں آپ کی قبر منور بنائی ۔
''عشرہ مبشرہ ''یعنی جنت کی خوشخبری پانے والے دس صحابیوں میں سے یہی سب سے اخیر میں دنیا سے تشریف لے گئے اوران کے بعد دنیا عشرہ مبشرہ کے ظاہری وجود سے خالی ہوگئی مگر زمانہ ان کی برکات سے ہمیشہ ہمیشہ مستفیض ہوتا رہے گا۔ (1)