Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
128 - 342
فرمادیا کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اپنے حق سے دستبردار ہوتا ہوں ۔ پھر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اپنے حق سے کنارہ کش ہوگئے ۔ آخر میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا حق دے دیا۔ اب خلافت کے حقدار حضرت عثمان و حضرت علی وحضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہم رہ گئے۔ پھرحضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عثمان وعلی! رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں تم دونوں کو یقین دلاتاہوں کہ میں ہرگز ہرگز خلیفہ نہیں بنوں گا ، اب تم دو ہی امیدوار رہ گئے ہو اس لئے تم دونوں خلیفہ کے انتخاب کا حق مجھے دے دو۔ حضرت عثمان وحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انتخاب خلیفہ کا مسئلہ خوشی خوشی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کردیا۔ اس گفتگو کے مکمل ہوجانے کے بعد حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکان سے باہر نکل آئے اورپورے شہر مدینہ میں خفیہ طور پر گشت کر کے ان دونوں امیدواروں کے بارے میں رائے عامہ معلوم کرتے رہے ۔ پھر دونوں امیدواروں سے الگ الگ تنہائی میں یہ عہد لے لیا کہ اگرمیں تم کو خلیفہ بنادوں تو تم عدل کرو گے اوراگر دوسرے کو خلیفہ مقرر کردوں تو تم اس کی اطاعت کرو گے۔ جب دونوں امیدواروں سے یہ عہد لے لیا تو پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں آکر یہ اعلان فرمایا کہ اے لوگو!میں نے خلافت کے معاملہ میں خود بھی کافی غور وخوض کیا اوراس معاملہ میں انصار ومہاجرین کی رائے عامہ بھی معلوم کرلی ہے۔ چونکہ رائے عامہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے حق میں زیادہ ہے اس لئے میں حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کو خلیفہ منتخب کرتاہوں ۔ یہ کہہ کر سب سے پہلے خود آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی اور آپ کے بعد حضرت علی اوردوسرے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ