Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
127 - 342
کرامات
    یوں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس زندگی سراپا کرامت ہی کرامت تھی مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا مسئلہ آپ نے جس طرح طے فرمایا وہ آپ کی باطنی فراست اورخدادادکرامت کاایک بڑا ہی انمول نمونہ ہے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت
    امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بوقت وفات چھ جنتی صحابہ حضرت عثمان وحضرت علی وحضرت سعدبن ابی وقاص وحضرت زبیر بن العوام وحضرت عبدالرحمن بن عوف وحضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نام لے کر یہ وصیت فرمائی کہ میرے بعد ان چھ شخصوں میں سے جس پر اتفاق رائے ہوجائے اس کو خلیفہ مقرر کیا جائے اور تین دن کے اندر خلافت کا مسئلہ ضرورطے کرلیا جائے اوران تین دنوں تک حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی علی صاحبہاالصلوۃ و السلام میں امامت کرتے رہیں گے ۔ اس وصیت کے مطابق یہ چھ حضرات ایک مکان میں جمع ہوکردوروز تک مشورہ کرتے رہے مگر یہ مجلس شوریٰ کسی نتیجہ پر نہ پہنچی ۔ تیسرے دن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ آج تقررخلافت کا تیسرا دن ہے لہٰذا تم لوگ آج اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرلو۔ حاضرین نے کہا :اے عبدالرحمن !رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم لوگ تو اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی تجویز ہوتو پیش کیجئے ۔ آپ نے فرمایا کہ چھ آدمیوں کی یہ جماعت ایثار سے کام لے اورتین آدمیوں کے حق میں اپنے اپنے حق سے دستبردار ہوجائے ۔ یہ سن کر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان
Flag Counter