اکیس زخم لگے تھے اور ان کے پاؤں میں بھی ایک گہرازخم لگ گیا تھا جس کی و جہ سے یہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔(1) آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کا تجارتی قافلہ جو سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا۔ آپ نے اپنا یہ پورا قافلہ مع اونٹوں اوران پر لدے ہوئے سامانوں کے خداعزوجل کی راہ میں خیرات کردیا۔
ایک مرتبہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو صدقہ دینے کی ترغیب دی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چارہزاردرہم پیش کردیئے۔ دوسری مرتبہ چالیس ہزار درہم اور تیسری مرتبہ پانچ سو گھوڑے ،پانچ سو اونٹ پیش کردئیے(2) بوقت وفات ایک ہزار گھوڑے اورپچاس ہزاردیناروں کا صدقہ کیا اور جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کیلئے چار چارسو دینار کی وصیت فرمائی(3) اورام المؤمنین حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور دوسری ازواج مطہرات کیلئے ایک باغ کی وصیت کی جو چالیس ہزار درہم کی مالیت کا تھا۔ (4)(مشکوٰۃ،ج۲،ص۵۶۷)
۳۲ھمیں کچھ دنوں بیمار رہ کر بہتّر سال کی عمرمیں وصال فرمایااور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے اورہمیشہ کے لیے سخاوت وشجاعت کایہ آفتاب غروب ہوگیا۔(5)(عشرہ مبشرہ،ص۲۲۹تا۲۳۵واکمال،ص۶۰۳وکنزالعمال،ج۱۵،ص۲۰۴)