یہ بھی عشرہ مبشرہ یعنی دس جنتی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی فہرست میں ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے دس سال بعد خاندان قریش میں پیدا ہوئے۔ (1) ابتدائی تعلیم وتربیت اسی طرح ہوئی جس طرح سرداران قریش کے بچوں کی ہوا کرتی تھی ۔ ان کے اسلام لانے کا سبب یہ ہوا کہ یمن کے ایک بوڑھے عیسائی راہب نے ان کو نبی آخرالزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ظہور کی خبردی اوریہ بتایا کہ وہ مکہ میں پیدا ہوں گے اور مدینہ منورہ کو ہجرت کریں گے ۔جب یہ یمن سے لوٹ کر مکہ مکرمہ آئے توحضرت ابو بکر صدیق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اسلام کی ترغیب دی۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔جبکہ آپ سے پہلے چند ہی آدمی آغوش اسلام میں آئے تھے چونکہ مسلمان ہوتے ہی آپ کے گھروالوں نے آپ پر ظلم وستم کا پہاڑ توڑنا شروع کردیااس لئے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے ۔ پھر حبشہ سے مکہ مکرمہ واپس آئے اوراپنا سارامال واسباب چھوڑ کر بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے بازار کا رخ کیا اورچند ہی دنوں میں آپ کی تجارت میں اس قدر خیروبرکت ہوئی کہ آپ کا شمار دولت مندوں میں ہونے لگا اور آپ نے قبیلہ انصار کی ایک خاتون سے شادی بھی کرلی۔(2)
تمام اسلامی لڑائیوں میں آپ نے جان ومال کے ساتھ شرکت کی ۔ جنگ اُحد میں یہ ایسی جاں بازی اورسرفروشی کے ساتھ کفارسے لڑے کہ ان کے بدن پر