اندازہ فرمالیا کہ اس قلعہ کو فتح کرنا نہایت ہی دشوار ہے لیکن آپ نے اپنے فوجی دستے کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے بہادران اسلام ! دیکھومیں آج اپنی ہستی کو اسلام پر فدا اور قربان کرتاہوں ۔ یہ کہہ کر آ پ نے بالکل اکیلے قلعہ کی دیوار پر سیڑھی لگائی اور تنہا قلعہ کی فصیل پر چڑھ کر ''اللہ اکبر''کا نعرہ مارااور ایک دم فصیل کے نیچے قلعہ کے اندر کود کر اکیلے ہی قلعہ کی اندرونی فوج سے لڑتے ہوئے قلعہ کا پھاٹک کھول دیا او ر اسلامی فوج نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قلعہ کے اندر داخل ہوگئی اوردم زدن میں قلعہ فتح ہوگیا۔
اس مضبوط ومستحکم قلعہ کو جس بے مثال جرأت اوربہادری سے منٹوں میں فتح کرلیا ۔ اس کو تاریخ جنگ میں کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ امیر لشکرحضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس کرامت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ وہ کئی ماہ سے اس قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے مگر باوجود اپنی جنگی مہارت اوراعلیٰ درجے کی کوششوں کے وہ اس قلعہ کو فتح نہیں کرسکے تھے ۔ (کتاب عشرہ مبشرہ،ص۲۲۴)