Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
124 - 342
اندازہ فرمالیا کہ اس قلعہ کو فتح کرنا نہایت ہی دشوار ہے لیکن آپ نے اپنے فوجی دستے کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے بہادران اسلام ! دیکھومیں آج اپنی ہستی کو اسلام پر فدا اور قربان کرتاہوں ۔ یہ کہہ کر آ پ نے بالکل اکیلے قلعہ کی دیوار پر سیڑھی لگائی اور تنہا قلعہ کی فصیل پر چڑھ کر ''اللہ اکبر''کا نعرہ مارااور ایک دم فصیل کے نیچے قلعہ کے اندر کود کر اکیلے ہی قلعہ کی اندرونی فوج سے لڑتے ہوئے قلعہ کا پھاٹک کھول دیا او ر اسلامی فوج نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قلعہ کے اندر داخل ہوگئی اوردم زدن میں قلعہ فتح ہوگیا۔ 

    اس مضبوط ومستحکم قلعہ کو جس بے مثال جرأت اوربہادری سے منٹوں میں فتح کرلیا ۔ اس کو تاریخ جنگ میں کرامت کے سواکچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔ امیر لشکرحضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس کرامت کو دیکھ کر دنگ رہ گئے کیونکہ وہ کئی ماہ سے اس قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے مگر باوجود اپنی جنگی مہارت اوراعلیٰ درجے کی کوششوں کے وہ اس قلعہ کو فتح نہیں کرسکے تھے ۔ (کتاب عشرہ مبشرہ،ص۲۲۴)
حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکل میں حضرت جبریل علیہ السلام
    حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ جنگ بدرکے دن حضرت جبریل علیہ السلام پیلے رنگ کاعمامہ باندھے ہوئے حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکل وصورت میں فرشتوں کی فوج لے کر اترے تھے۔(1)(کنزالعمال،ج۲،ص۱۲۷،مطبوعہ حیدرآباد)
1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، الزبیربن العوام...الخ، الحدیث: 

۳۶۶۲۲، ج۷، الجزء۱۳،ص۹۰
Flag Counter