Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
123 - 342
رہی ہے کہ بزرگان دین وعلما ء صالحین کے عصاء، قلم، تلوار ، تسبیح ، لباس ، برتن وغیرہ سامانوں کو یادگار کے طور پر بطورتبرک اپنے پاس رکھنا حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اورخلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مقدس سنت ہے ۔ غور فرمائيے کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برچھی کو تبرک بنا کر رکھنے میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اورآپ کے خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس قدر اہتمام کیا اورکس کس طرح اس برچھی کا اعزازواکرام کیا؟

    بدعقیدہ لوگ جو بزرگان دین کے تبرکات اوران کی زیارتوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں اور اہل سنت کو طعنہ دیا کرتے ہیں کہ یہ لوگ بزرگوں کی لاٹھیوں ، تلواروں، قلموں کا اکرام واحترام کرتے ہیں ۔ یہ حدیث ان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے سرمۂ ہدایت سے کم نہیں بشرطیکہ ان کی آنکھیں پھوٹ نہ گئی ہوں۔
فتح فسطاط
    مصر کی جنگ میں حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ فسطاط کے قلعہ کا کئی ماہ سے محاصرہ کئے ہوئے تھے لیکن اس مضبوط قلعہ کو فتح کرنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی تھی ۔ آپ نے دربار خلافت میں مزید فوجوں سے امداد کے لیے درخواست بھیجی۔ امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دس ہزار مجاہدین اورچار افسروں کو بھیج کر یہ تحریر فرمایا کہ ان چار افسروں میں ہر افسر دس ہزار سپاہ کے برابر ہے ۔ ان چارافسروں میں حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ 

    حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حملہ آور محاصرین کی فوج کا سپہ سالار بنادیا۔ حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قلعہ کا چکر لگا کر
Flag Counter