رہی ہے کہ بزرگان دین وعلما ء صالحین کے عصاء، قلم، تلوار ، تسبیح ، لباس ، برتن وغیرہ سامانوں کو یادگار کے طور پر بطورتبرک اپنے پاس رکھنا حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اورخلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مقدس سنت ہے ۔ غور فرمائيے کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برچھی کو تبرک بنا کر رکھنے میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اورآپ کے خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کس قدر اہتمام کیا اورکس کس طرح اس برچھی کا اعزازواکرام کیا؟
بدعقیدہ لوگ جو بزرگان دین کے تبرکات اوران کی زیارتوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں اور اہل سنت کو طعنہ دیا کرتے ہیں کہ یہ لوگ بزرگوں کی لاٹھیوں ، تلواروں، قلموں کا اکرام واحترام کرتے ہیں ۔ یہ حدیث ان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے سرمۂ ہدایت سے کم نہیں بشرطیکہ ان کی آنکھیں پھوٹ نہ گئی ہوں۔