العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوش جہاد میں بھرے ہوئے مقابلے کے لیے اپنی صف سے نکلے مگر یہ دیکھا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو لوہے میں چھپاہوا نہ ہو۔آپ نے تاک کر اس کی آنکھ میں اس زور سے برچھی ماری کہ برچھی اس کی آنکھ کو چھیدتی ہوئی کھوپڑی کی ہڈی میں چبھ گئی اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرااورفوراً ہی مرگیا۔حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اس کی لاش پر پاؤں رکھ کر پوری طاقت سے برچھی کو کھینچا تو بڑی مشکل سے برچھی نکلی لیکن برچھی کا سرا مڑکر خم ہوگیا تھا۔یہ برچھی ایک باکرامت یادگار بن کر برسوں تک تبرک بنی رہی۔ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ برچھی طلب فرمالی اوراس کو اپنے پاس رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہی اوریہ حضرات اعزازواحترام کے ساتھ اس برچھی کی خاص حفاظت فرماتے رہے ۔ پھر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزندحضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آگئی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں جب بنو امیہ کے ظالم گورنرحجاج بن یوسف ثقفی نے ان کو شہید کردیا تو یہ برچھی بنوامیہ کے قبضہ میں چلی گئی۔ پھر اس کے بعد لاپتہ ہوگئی ۔ (1)(بخاری شریف ج۲،ص۵۷۰،غزوہ بدر)