کے مقابلے میں آپ نے جس مجاہدانہ بہادری کا مظاہر ہ کیاتواریخ جنگ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ آپ جس طرف بھی تلوار لے کر بڑھتے کفار کے پرے کے پرے کاٹ کر رکھ دیتے ۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنگ خندق کے دن ''حواری''(مخلص وجاں نثار دوست )کا خطاب عطافرمایا۔ آپ جنگ جمل سے بیزار ہوکر واپس تشریف لے جارہے تھے کہ عمروبن جرموز نے آ پ کو دھوکہ دے کر شہید کردیا۔ وقت شہادت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف چونسٹھ برس کی تھی۔ ۳۶ھ میں بمقام سفوان آپ کی شہادت ہوئی ۔
پہلے یہ ''وادی السباع''میں دفن کئے گئے مگر پھر لوگوں نے ان کی مقدس لاش کو قبر سے نکالااور پورے اعزاز واحترام کے ساتھ لاکر آپ کو شہر بصرہ میں سپرد خاک کیا جہاں آپ کی قبر شریف مشہور زیارت گاہ ہے ۔(1) (اکمال ص ۵۹۵وغیرہ)