| کراماتِ صحابہ |
شہیدوں کا یہ حال ہے اوران کی جسمانی حیات کی یہ شان ہے تو پھر حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خاص کر حضورسیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی جسمانی حیات اور ان کے تصرفات اوران کے اختیارواقتدارکا کیا عالم ہوگا۔
غورفرمائیے کہ وہابیوں کے پیشوامولوی اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویۃ الایمان میں یہ مضمون لکھ کر کہ ''حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مر کر مٹی میں مل گئے۔ '' (نعوذباللہ)کتنا بڑا جرم اورظلم عظیم کیا ہے ۔ اللہ اکبر!ان بے ادبوں اورگستاخوں نے اپنے نوک قلم سے محبین رسول کے قلوب کو کس طرح مجروح وزخمی کیا ہے ، اس کو بیان کرنے کے لئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔فَاِلَی اللہِ الْمُشْتَکٰی وَھُوَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام
(۶) حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ
یہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں ۔ اس لئے یہ رشتہ میں شہنشاہ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے اورحضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دامادہیں ۔ یہ بھی عشرہ مبشرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ہیں جن کو حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے جنتی ہونے کی خوشخبری سنائی ۔
بہت ہی بلند قامت ، گورے اور چھریرے بدن کے آدمی تھے اوراپنی والدہ ماجدہ کی بہترین تربیت کی بدولت بچپن ہی سے نڈر ، جفاکش ، بلند حوصلہ اورنہایت ہی اولوالعزم اوربہادر تھے ۔ سولہ برس کی عمر میں اس وقت اسلام قبول کیا جبکہ ابھی چھ یا سات آدمی ہی حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے ۔ تمام اسلامی لڑائیوں میں دلا وران عرب