Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
117 - 342
آنے کے بعد جب ان کو پتہ چلا کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمادیا ہے تو حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ (1)

    کفارمکہ نے ان کو بے حد ستایا اور رسی باندھ باندھ کر ان کو مارتے رہے مگر یہ پہاڑ کی طرح دین اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے اورجنگ بدر کے سوا تمام اسلامی جنگوں میں کفار سے لڑتے رہے ۔ جنگ بدرمیں ان کی غیر حاضر ی کا یہ سبب ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو اورحضرت سعید بن زید رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کو ابو سفیان کے قافلہ کی تلاش میں بھیج دیا تھا۔ ابو سفیان کا قافلہ ساحل سمندر کے راستوں سے مکہ مکرمہ چلا گیا اور یہ دونوں حضرات جب لوٹ کر میدان بدر میں پہنچے تو جنگ ختم ہوچکی تھی ۔ 

    جنگ اُحد میں انہوں نے بڑی ہی جاں بازی اورسرفروشی کا مظاہرہ کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو کفار کے حملوں سے بچانے میں چونکہ یہ تلوار اور نیزوں کی بوچھاڑ کو اپنے ہاتھ پر روکتے رہے اس لئے آپ کی انگلی کٹ گئی اورہاتھ بالکل شل ہوگیا تھا اوران کے بدن پر تیر وتلواراورنیزوں کے پچھترزخم لگے۔ (2)

    ان کے فضائل ومناقب میں چند حدیثیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔ جنگ احد کے دن جب جنگ رک جانے کے بعدحضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چٹان پر چڑھنے لگے
1۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب الخامس فی مناقب ابی محمد طلحۃ بن 

عبید اللہ، الفصل الرابع فی اسلامہ، ج۲،ص۲۵۰

2۔۔۔۔۔۔اسد الغابۃ، طلحۃ بن عبید اللہ القرشی التیمی ،ج۳، ص۸۳،۸۴ 

والاکمال فی اسماء الرجال،حرف الطاء، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۱
Flag Counter