Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
116 - 342
اور آپ نے اس کو اپنے دست مبارک سے دفن کیا اور اس کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔(1)(شواہد النبوۃ،ص۱۶۴)
(۵)حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    آپ کا نام نامی بھی عشرہ مبشرہ کی فہرست گرامی میں ہے ۔ مکہ مکرمہ کے اندر خاندان قریش میں آپ کی پیدائش ہوئی ۔ ماں باپ نے ''طلحہ''نام رکھا ،مگر دربار نبوت سے ان کو ''فیاض ''و''جود ''و''خیر''کے معزز القاب عطاہوئے ۔ یہ جماعت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے سابقین اولین کے زمرہ میں ہیں ۔ (2) ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ ہے کہ یہ بسلسلہ تجارت بصرہ گئے تو وہاں کے ایک عیسائی پادری نے ان سے دریافت کیاکہ کیا مکہ میں ''احمدنبی''پیدا ہوچکے ہیں ؟انہوں نے حیران ہوکر پوچھا : کون''احمد نبی''پادری نے کہا:

    ''احمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ۔ وہ نبی آخرالزماں ہیں اوران کی نبوت کے ظہور کا یہی زمانہ ہے اوران کی پہچان کا نشان یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں پیداہوں گے اورکھجوروں والے شہر(مدینہ منورہ)کی طرف ہجرت کریں گے ۔ ''

    چونکہ اس وقت تک حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان نہیں فرمایا تھا اس لئے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پادری کو نبی آخرالزماں خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کوئی جواب نہ دے سکے ،لیکن بصرہ سے مکہ معظمہ
1۔۔۔۔۔۔شواہد النبوۃ، رکن سادس دربیان شواھد ودلایلی...الخ،ص۲۱۶

2۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الباب الخامس فی مناقب ابی محمدطلحۃ بن 

عبید اللہ، الفصل الثانی فی اسمہ وکنیتہ، ج۲،ص۲۴۵
Flag Counter