Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
118 - 342
تو لوہے کی زرہ کے بوجھ کی و جہ سے چٹان پر چڑھنا دشوار ہوگیا۔اس وقت حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھ گئے اور ان کے بدن کے اوپر سے گزرکر حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چٹان پرچڑھے اورخوش ہوکر فرمایا:
''اَوْجَبَ طَلْحَۃُ ''
(یعنی طلحہ نے اپنے لئے جنت واجب کرلی۔) (1)(مشکوٰۃ ،ص۵۶۶)

    اسی طرح حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :زمین پر چلتا پھرتا شہید ''طلحہ ''ہے۔(2)(کنزالعمال،ج۱۲،ص۲۷۵مطبوعہ حیدرآباد)

    ۲۰جمادی الاخریٰ  ۳۶ھ؁ میں جنگ جمل کے دوران آپ کوایک تیرلگااور آپ چونسٹھ برس کی عمرمیں شہادت سے سرفرازہوئے۔(3)

                 (اکمال ص۶۰۱وعشرہ مبشرہ ص۲۴۵)
کرامت
ایک قبر سے دوسری قبر میں
    شہادت کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ کے قریب دفن کردیا گیا مگر جس مقام پرآپ کی قبر شریف بنی وہ نشیب میں تھا اس لئے قبر مبارک کبھی کبھی پانی میں ڈوب جاتی تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو بار بار متواتر خواب میں آکراپنی قبر بدلنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اپنا خواب
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب، باب مناقب العشرۃ رضی اللہ عنہم،الحدیث:۶۱۲۱،ج۲،ص۴۳۳

2۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، تتمّۃ العشرۃ رضی اللہ عنہم اجمعین طلحۃ بن عبید اللہ،الحدیث:۳۶۵۹۲،ج۷،الجزء ۱۳،ص۸۶

3۔۔۔۔۔۔الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، طلحۃ بن عبیداللہ التیمی،ج۲، ص۳۲۰ ملتقطاً
Flag Counter