Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
115 - 342
ہاتھوں کی انگلیوں کو اس پتھرکی دراز میں ڈال کر زور لگایاتو وہ پتھر نکل پڑا اور اس کے نیچے سے ایک نہایت ہی صاف شفاف اورشیریں پانی کا چشمہ ظاہر ہوگیا اورتمام لشکر اس پانی سے سیراب ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے جانوروں کو بھی پلایا اور لشکر کی تمام مشکوں کو بھی بھر لیا، پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پتھر کو اس کی جگہ پررکھ دیا ۔ گرجا گھر کا عیسائی راہب آپ کی یہ کرامت دیکھ کر سامنے آیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا آ پ فرشتہ ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں ۔اس نے پوچھا: کیا آپ نبی ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: نہیں ۔ اس نے کہا: پھر آپ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں پیغمبرمرسل حضرت محمدبن عبداللہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا صحابی ہوں اور مجھ کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے چند باتوں کی وصیت بھی فرمائی ہے۔ یہ سن کر وہ عیسائی راہب کلمہ شریف پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگیا۔

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :تم نے اتنی مدت تک اسلام کیوں قبول نہیں کیا تھا؟ راہب نے کہا کہ ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس گرجا گھر کے قریب جو ایک چشمہ پوشیدہ ہے اوراس چشمہ کو وہی شخص ظاہر کریگا جو یاتو نبی ہوگا یا نبی کا صحابی ہوگا۔ چنانچہ میں اور مجھ سے پہلے بہت سے راہب اس گرجا گھر میں اسی انتظار میں مقیم رہے۔ اب آج آپ نے یہ چشمہ ظاہر کردیا تو میری مراد برآئی۔ اس لئے میں نے آپ کے دین کو قبول کرلیا ۔راہب کی تقریرسن کر آپ روپڑے اور اس قدر روئے کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی اورپھر آپ نے ارشاد فرمایا:الحمد للہ! عزوجل کہ ان لوگوں کی کتابوں میں بھی میرا ذکر ہے۔ یہ راہب مسلمان ہوکر آپ کے خادموں میں شامل ہوگیااورآپ کے لشکر میں داخل ہوکر شامیوں سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگیا