اس روایت سے یہ سبق ملتاہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی آل پاک کو بارگاہ خداوندی میں اس قدر قرب اورمقبولیت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کی امدادونصرت اورحاجت برآری کے لئے خاص طورپر مقررفرمادیا ہے۔ یہ شرف حضرات اہل بیت کو حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت خاصہ کی و جہ سے حاصل ہوا ہے۔ سبحان اللہ! سلطان مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی عزت و عظمت اوران کے وقارواقتدارکا کیا کہنا ؟کہ آپ کے گھر والوں کی چکی فرشتے چلا یا کرتے تھے ۔
میں کب وفات پاؤں گا؟
حضرت فضالہ بن ابی فضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماارشادفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقام ''ینبع'' میں بہت سخت بیمار ہوگئے تومیں اپنے والد کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا ۔ دوران گفتگو میرے والد نے عرض کیا : اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ اس وقت ایسی جگہ علالت کی حالت میں مقیم ہیں اگراس جگہ آپ کی وفات ہوگئی توقبیلہ ''جہینہ''کے گنواروں کے سوا اورکون آپ کی تجہیز و تکفین کریگا؟اس لئے میری گزارش ہے کہ آپ مدینہ منورہ تشریف لے چلیں کیونکہ وہاں اگر یہ حادثہ رونما ہوا تو وہاں آپ کے جاں نثار مہاجرین وانصاراور دوسرے مقدس صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے اوریہ مقدس ہستیاں آپ کے کفن ودفن
1۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ،الباب الرابع فی مناقب امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب،الفصل التاسع فی ذکرنبذمن فضائلہ، ذکر کراماتہ،ج۲،ص۲۰۲ملتقطاً