| کراماتِ صحابہ |
آج حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر انور بنی ہوئی ہے، توآپ نے فرمایا کہ اس جگہ آئندہ زمانے میں ایک آل رسول ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کا قافلہ ٹھہرے گا اوراس جگہ ان کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں گے اوراسی میدان میں جوانان اہل بیت کی شہادت ہوگی اور اسی جگہ ان شہیدوں کا مدفن بنے گا اوران لوگوں پر آسمان وزمین روئیں گے۔ (1)
(ازالۃ الخفاء ، مقصد۲،ص۲۷۳ بحوالہ الریاض النضرۃ)
تبصرہ
روایت بالا سے پتہ چلتا ہے کہ اولیاء اللہ کو بذریعہ کشف برسوں بعد ہونے والے واقعات اورلوگوں کے حالات یہاں تک کہ لوگوں کی موت اورمدفن کی کیفیات کا علم حاصل ہوجاتاہے اوریہ درحقیقت علم غیب ہے جو اللہ تعالیٰ کے عطا فرمانے سے اولیاء کرام کو حاصل ہواکرتاہے اوریہ اولیاء کرام کی کرامت ہواکرتی ہے ۔
فرشتوں نے چکی چلائی
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلانے کے لیے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کے گھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہی ہے۔ جب میں نے بارگاہ رسالت میں اس عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے ابو ذر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی یہ بھی ڈیوٹی فرما دی
1۔۔۔۔۔۔الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ،الباب الرابع فی مناقب امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب،الفصل التاسع فی ذکرنبذمن فضائلہ، ذکر کراماتہ،ج۲،ص۲۰۱