| کراماتِ صحابہ |
کا انتظام کریں گی۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اے ابوفضالہ! تم اطمینان رکھو کہ میں اپنی بیماری میں ہرگز ہرگز وفات نہیں پاؤں گا۔ سن لو اس وقت تک ہر گز ہرگز میری موت نہیں آسکتی جب تک کہ مجھے تلوار مار کرمیری پیشانی اورداڑھی کو خون سے رنگین نہ کردیا جائے۔ (1) (ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۲۷۳)
تبصرہ
چنانچہ ایسا ہی ہواکہ بدبخت عبدالرحمن بن ملجم مرادی خارجی نے آپ کی مقدس پیشانی پر تلوار چلادی، جو آپ کی پیشانی کو کاٹتی ہوئی جبڑے تک پیوست ہوگئی۔ اس وقت آپکی زبان مبارک سے یہ جملہ ادا ہوا: فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَۃِ(یعنی کعبہ کے رب کی قسم! کہ میں کامیاب ہوگیا)اس زخم میں آپ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئے اور آپ نے حضرت ابوفضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مقام ینبع میں جو فرمایا تھا وہ حرف بحرف صحیح ہوکررہا۔
درِخیبرکا وزن
جنگ خیبر میں جب گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گرپڑی تو آپ نے جوش جہاد میں آگے بڑھ کر قلعہ خیبر کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اوراس کے ایک کواڑکو ڈھال بنا کراس پر دشمنوں کی تلواروں کو روکتے تھے ۔ یہ کواڑ اتنا بھاری اوروزنی تھا کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد چالیس آدمی ملکر بھی اس کو نہ اٹھا سکے۔ (2) (زرقانی ج۲،ص۲۳۰)
1۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصددوم، اما مآثر امیرالمؤمنین وامام اشجعین اسد اللہ...الخ، ومن کراماتہ، ج۴، ص۴۹۶ 2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، غزوۃ خیبر،ج۳،ص۲۶۷ملتقطاً