Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
106 - 342
تبصرہ
    یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ خداوند قدوس اپنے اولیاء کرام کو ایسی ایسی روحانی طاقتیں عطافرماتاہے کہ ان کے اشاروں سے گرتی ہوئی دیواریں تو کیا چیز ہیں؟ بہتے ہوئے دریاؤں کی روانی بھی ٹھہر جاتی ہے ۔ سچ ہے ؎
کوئی اندازہ کرسکتاہے اس کے زور بازو کا 

نگاہِ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
آپ کو جھوٹا کہنے والا اندھا ہوگیا
    علی بن زاذان کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ کوئی بات ارشاد فرمائی تو ایک بد نصیب نے نہایت ہی بیباکی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ اے امیرالمؤمنین !رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ جھوٹے ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے شخص ! اگر میں سچاہوں تو ضرور تو قہر الٰہی میں گرفتارہوجائے گا ۔ اس گستاخ نے کہہ دیا کہ آپ میرے لیے بد دعا کردیجئے، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ ا س کے منہ سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ بالکل ہی اچانک وہ شخص دونوں آنکھوں سے اندھا ہوگیا اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ (1)(ازالۃ الخفاء، مقصد۲،ص۲۷۳)
کون کہاں مرے گا ؟کہاں دفن ہوگا
    حضرت اصبغ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر میں میدان کربلا کے اندر ٹھیک اس جگہ پہنچے جہاں
1۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم، اما مآثر امیرالمؤمنین وامام اشجعین 

اسداللہ...الخ،ومن کراماتہ،ج۴،ص۴۹۵
Flag Counter