Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
105 - 342
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری سرگزشت سن کر فرمایا کہ اے شخص !اگر واقعی تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو اطمینان رکھ کہ خدا کریم بھی تجھ سے خوش ہوگیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بحلف شرعی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میرا باپ مجھ سے خوش ہوگیا تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کی حالت زار پر رحم کھاکر اس کو تسلی دی اورچند رکعت نماز پڑھ کر اس کی تندرستی کے لئے دعا مانگی۔ پھرفرمایا کہ اے شخص! اٹھ کھڑا ہوجا!یہ سنتے ہی وہ بلاتکلف اٹھ کر کھڑا ہوگیا اورچلنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے شخص !اگر تو نے قسم کھاکر یہ نہ کہا ہوتا کہ تیرا باپ تجھ سے خوش ہوگیا تھا تو میں ہرگز تیرے لئے دعا نہ کرتا۔ (1) (حجۃ اللہ علی العالمین ،ج۲،ص۸۶۳)
گرتی ہوئی دیوار تھم گئی
    حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دیوار کے سائے میں ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ درمیان مقدمہ میں لوگوں نے شور مچایا کہ اے امیرالمؤمنین!رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں سے اٹھ جائيے یہ دیوار گررہی ہے ۔ آپ نے نہایت سکون واطمینان کے ساتھ فرمایا کہ مقدمہ کی کارروائی جاری رکھو۔اللہ تعالیٰ بہترین حافظ وناصرونگہبان ہے۔ چنانچہ اطمینان کے ساتھ آپ اس مقدمہ کا فیصلہ فرما کر جب وہاں سے چل دیئے تو فوراً  ہی وہ دیوار گر گئی۔(2)(ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۲۷۳)
1۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۴

2۔۔۔۔۔۔ازالۃ الخفاء عن خلافۃالخلفاء،مقصددوم،امامآثرامیرالمؤمنین وامام اشجعین اسد 

اللہ...الخ،ومن کراماتہ،ج۴،ص۴۹۴
Flag Counter