| کامیاب استاد كون؟ |
وُجود اپنے پیارے آقا اکی سنتوں کا آئینہ دار بن جائے گا ، اسلاف ِ کرام رحمھم اللہ کی راہ ِ خدا عزوجل میں دی جانے والی قربانیوں کا احساس ہوگا اور ان کے نقش ِ قدم پر چلنے کی سعادت نصیب ہوگی ،مکۃ المکرمہ ومدینۃ المنورہ کے مقدس سفر کی تڑپ ملے گی،اپنے وقت کو بے فائدہ کاموں میں صرف کرنے کی بجائے خدمتِ دین میں صرف کرنے اور علمِ دین کو پھیلانے کا شعور نصیب ہوگا اور ان سب امور کی بدولت جامعہ ومدرسہ کے ماحول کو پاکیزگی کے چار چاند لگ جائیں گے ۔ ان شاء اللہ عزوجل
دیگر اساتذہ سے کیسے تعلقات رکھے؟
دوسرے اساتذہ کا دل سے احترام کرے اور کسی استاذ کو اس کی کم علمی یا قلتِ تجربہ کی بنا پر حقیر نہ جانے ۔ ان کے اندازِ تدریس پر ''تبصرے'' نہ کرے ۔ ان کے معاملات میں خواہ مخواہ دخل اندازی نہ کرے ۔حسب ِ استطاعت ان کی خیر خواہی کرے۔ اگر انہیں پریشان دیکھے تو ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کی پیش کش بھی کرے ۔ان کے منصب کی عظمت کا صدق ِ دل سے قدردان رہے ۔ ان کی تعریف وتوصیف ہونے کی صورت میں مریض ِ حسد نہ بنے ۔ اگر کسی استاذ سے کوئی شکایت ہوتو '' جابجا چرچا کرنے کی بجائے''براہِ راست اسی سے رجوع کرنا مفید ہے ۔
انتظامیہ سے تعلقات کیسے ہونے چاہيں؟
جامعات کو چلانے میں انتظامیہ کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔استاذ کو چاہيے کہ ان کی خدمات کا معترف رہے اور ان کی کوتاہیوں پر سرِ عام تنقید کرکے انتشار نہ پھیلائے۔ ان کے معاملات میں بے جا مداخلت نہ کرے اور ان کی طرف سے جوہدایات جاری کی جائیں تو کوئی شرعی قباحت نہ ہونے کی صورت میں ان پر ضرور عمل