Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
40 - 44
کرے ۔'' یک در گیر محکم گیر ''پر عمل کرتے ہوئے ایک ہی جامعہ سے وابستہ رہنے کی کوشش کرے ، اچھے مشاہرہ یا سہولیات کی فراوانی کی وجہ سے کبھی بھی جامعہ تبدیل نہ کرے ۔ جب جامعہ میں امتحانات اور ان کے نتائج مرتب کرنے کا سلسلہ ہو تو حتی الامکان اپنی خدمات وقتِ اجارہ کے بعد بھی پیش کردے ۔ اسی طرح جامعہ میں ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں انتظامیہ سے بھر پور تعاون کرے ۔ بلاحاجتِشدیدہ کبھی چھٹی نہ کرے اور نہ ہی مدرسہ میں تاخیر سے پہنچنے کی عادت بنائے کہ اس سے طلباء کی پڑھائی کا حرج ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی تشویش میں مبتلاء ہوجاتی ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت صدر الشر یعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ کا طرزِ عمل ملاحظہ ہو :

    ''آپ علیہ الرحمۃ اپنے فرائض منصبی میں انتہائی مخلص اور محنتی تھے ۔آپ وقت سے پہلے مدرسہ پہنچتے اور چھٹی ہونے کے بعد تک درس جاری رکھتے ۔طبیعت کتنی ہی خراب ہوتی کبھی درس کا ناغہ گوارہ نہ کرتے ۔طلبہ آپ کی طبیعت کی ناسازی دیکھ کر نہ پڑھانے کی درخوست کرتے مگر آپ اسے قبول نہ فرماتے ۔آپ کہا کرتے تھے کہ ناغہ کرنے سے برکت اٹھ جاتی ہے۔حال یہ تھا کہ جمعہ کے دن بھی صبح گیارہ بجے تک گھر پر درس دیاکرتے تھے۔(سیرت صدر الشریعہ، ص ۵۹)

    بلکہ استاذ کو چاہيے کہ اگر کبھی کسی وجہ سے سبق کا ناغہ ہو جائے تو اس پر ملول ہو ۔ اپنے سبق کا ناغہ ہوجانے پر رنجیدہ ہونے والوں پر سرکارِ مدینہ  صلي الله تعالي عليه وسلم کیسا کرم فرماتے ہیں اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو ،

    ''حضرت سیدنا شاہ عالم رحمۃ اللہ علیہ (ان کا مزارِ پرانوار احمد آباد ،ہندمیں ہے)بہت بڑے عالم دین اور پائے کے ولی اللہ تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نہایت ہی لگن کے ساتھ علمِ