استاذ کو چاہيے کہ تمام طلباء سے یکساں سلوک کرے ۔ ایسا نہ ہو کہ چند ایک کو ہی اپنا منظورِ نظر بنا لے کیونکہ اس سے دیگر طلباء کا احساس ِ کمتری میں مبتلاء ہونے کا قوی احتمال ہے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ کسی طالب العلم کو مسلسل اپنی تنقید کا نشانہ بناتا رہے جس کی وجہ سے وہ طالب العلم اس جامعہ سے راہِ فرار اختیار کر لے ۔
کبھی بھی طلباء کے سامنے خود پر آنے والی آزمائشوں کا تذکرہ نہ کرے چاہے ان آزمائشوں کا تعلق انتظامیہ سے ہو یا مالی حالات سے ،علی ھذا القیاس۔اگر کبھی طلباء کی طرف سے تکلیف پہنچ جائے مثلاً وہ انتظامیہ سے سبق سمجھ نہ آنے کی شکایت کردیں تو سیخ پا ہونے کی بجائے شکایت درست ہونے کی صورت میں اپنی اصلاح کرے اور غلط ہونے کی صورت میں ان کی نادانی کو معاف کردے اور حسب ِ سابق ان پر شفقت کرتا رہے ۔منقول ہے کہ ایک بزرگ دریا کے کنارے وضو فرمارہے تھے،انہوں نے ایک