Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
36 - 44
ہے ۔'' لہذا!جب آپ اس سے احسان لے چکے ہوں گے تو کسی غلطی پر اس کی اصلاح کرنے میں جھجھک کا سامنا ہوگا ۔
 (19) ذاتی معاملات میں دخل نہ ديں:
            کسی طالب العلم کے ذاتی یا گھریلو معاملات میں بالکل دخل نہ دیں ۔کیونکہ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ وہ مروتاً خاموش رہے لیکن اسے آپ کی دخل اندازی شدید ناگوار گزرے ۔ہاں اگر وہ خود آپ سے کوئی مشورہ طلب کرے تو محتاط مشورہ دینے میں حرج نہیں ۔
 (20) یکساں تعلقات :
        استاذ کو چاہيے کہ تمام طلباء سے یکساں سلوک کرے ۔ ایسا نہ ہو کہ چند ایک کو ہی اپنا منظورِ نظر بنا لے کیونکہ اس سے دیگر طلباء کا احساس ِ کمتری میں مبتلاء ہونے کا قوی احتمال ہے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ کسی طالب العلم کو مسلسل اپنی تنقید کا نشانہ بناتا رہے جس کی وجہ سے وہ طالب العلم اس جامعہ سے راہِ فرار اختیار کر لے ۔
 (21) آزمائشوں کا تذکرہ :
    کبھی بھی طلباء کے سامنے خود پر آنے والی آزمائشوں کا تذکرہ نہ کرے چاہے ان آزمائشوں کا تعلق انتظامیہ سے ہو یا مالی حالات سے ،علی ھذا القیاس۔اگر کبھی طلباء کی طرف سے تکلیف پہنچ جائے مثلاً وہ انتظامیہ سے سبق سمجھ نہ آنے کی شکایت کردیں تو سیخ پا ہونے کی بجائے شکایت درست ہونے کی صورت میں اپنی اصلاح کرے اور غلط ہونے کی صورت میں ان کی نادانی کو معاف کردے اور حسب ِ سابق ان پر شفقت کرتا رہے ۔منقول ہے کہ ایک بزرگ دریا کے کنارے وضو فرمارہے تھے،انہوں نے ایک
Flag Counter