کسی بھی طالب العلم کو دوسرے طلباء یا اساتذہ یا انتظامیہ کے کسی فرد کی جاسوسی پربلااجازتِ شرعی مامور کرکے اپنی آخرت کو داؤ پر نہ لگائے ۔
(17) دیگر اساتذہ کی خامیوں کا چرچا کرنا:
کسی بھی استاذخواہ وہ اس سے جونیئر (یعنی کم تجربہ کار)ہی کیوں نہ ہو، کے اندازِ تدریس کے ناقص ہونے یا دیگر خامیوں کا تذکرہ ہرگز ہرگز طلباء بلکہ کسی کے سامنے بھی نہ کرے کیونکہ اس سے فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے اور جامعہ کا معیارِ تعلیم تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے ۔اس لئے جب بھی دیگر اساتذہ کا ذکر کرے تو بھلائی کے ساتھ ہی کرے ۔
(18) کسی طالب العلم کا احسان لینا:
کسی بھی طالب العلم سے کسی قسم کا احسان بصورت قرض یا عاریت وغیرہ نہ لیں کیونکہ مشہور عربی مقولہ ہے ،''الاحسان یقطع اللسان یعنی احسان زبان کو روک دیتا