| کامیاب استاد كون؟ |
استاذ کو چاہے کہ طلباء کے سامنے بالخصوص اور دیگر مسلمانوں کے سامنے بالعموم سچ ہی بولے ۔ اگر استاذ طلباء سے جھوٹ بولے گا تو ان کا اعتماد مجروح ہوگا اور وہ اس سے متنفر ہوکر علمِ دین سے ہی دور ہوسکتے ہیں ۔
(12) ذاتی خدمت:
استاذ کو چاہيے کہ بلاضرورت کسی بھی طالب العلم سے کسی طرح کی ذاتی خدمت نہ لے مثلاً کپڑے دھلوانا ، گھر کا سودا سلف منگوانا وغیرہ۔ ہاں اگر کوئی طالب العلم آپ کے علم میں لائے بغیریا آپ کے مطالبے کے بغیرآپ کا کوئی کام کرڈالے تو حرج نہیں لیکن آئندہ کے لئے اسے منع کردینا ہی بہتر ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے یہ کام وقتی جذبہ کے تحت کیا ہو ۔
(13) حوصلہ افزائی اور سزا حسب ِ مراتب:
طلباء اپنی عمر،ذہانت ، شوق اور قلبی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔لہذا!استاذ کو چاہيے کہ طلباء کی حوصلہ افزائی کرنے یا انہیں سزا دینے کے لئے ایک ہی معیار مقرر نہ کر لے بلکہ طالب علم کے حسبِ حال سلوک کرے مثلاً اگر کوئی طالب علم فقط شاباش کہنے سے خوش ہوجاتا ہے تو اسی پر اکتفاء کرے اس کی بہت زیادہ تعریف نہ کرے، اسی طرح اگر کوئی طالب علم ہلکی ڈانٹ سے ہی سنبھل جاتا ہے تو اسے سخت سزا دینے کی ضرورت نہیں ہے ، علی ھذا القیاس ۔
(14) ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا:
استاذ کو چاہے کہ بالخصوص آخری درجات (یعنی سادسہ ، سابعہ اوردورہ حدیث )میں طلباء کو اپنی صلاحیتیں مفید اُمور میں استعمال کرنے کی ترغیب دے پھر جس