Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
33 - 44
آخرت کی بھی ترغیب دِلاتا رہے اور انہیں اپنے ہر ہر فعل کا محاسبہ کرنے کا ذہن دے ۔ (اس سلسلے میں امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ کے رسالہ ''میں سدھرنا چاہتا ہوں '' اورمجلس المدینۃ العلمیۃ کی طرف سے پیش کی جانے والی کتاب ''فکر ِ مدینہ مع ۴۱ حکایاتِ عطاریہ ''کا مطالعہ بے حد مفید ہے ۔)
 (9) اندازِ تخاطب :
    استاذ کو چاہے کہ طلباء کو مخاطب کرتے وقت تُوتڑاق سے بچے بلکہ احترامِ مسلم کو ملحوظ خاطر رکھے اور انہیں پیار بھرے لہجے میں آپ جناب سے مخاطب کرنے کی کوشش کرے ۔ ابے تبے اور حاکمانہ انداز سے مخاطب کرنے پرہوسکتا ہے کہ طلباء آپ کے سامنے دبک کر کھڑے توہوجائيں لیکن ان کے دلوں میں آپ کے لئے وہ عزت قائم نہ رہے جو ایک استاذ کے لئے ہونی چاہيے۔
 (10) نام نہ بگاڑے:
    استاذ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ طلباء کے لئے سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس لئے استاذ کو چاہيے کہ مذاق میں بھی کسی کا غلط سلط نام نہ رکھے مثلاً موٹُو، گنجا، بلڈوزر ، ڈاکٹروغیرہ ۔ کیونکہ ممکن ہے کہ مذکورہ طالب العلم آپ کے سامنے مسکرا نا بھی شروع کردے لیکن یہ مسکراہٹ خوشی کی نہ ہو بلکہ وہ اپنی جھینپ مٹانے کے لئے مسکرا رہا ہو ۔ بالفرض اگر کوئی طالب علم آپ کے منہ سے اپنے لئے کوئی ایسا ویسانام سن کرخوش ہوبھی جائے مگر جب اس کے ہم درجہ طلباء اس کے لئے وہی نام استعمال کریں تو اسے برا محسوس ہو ۔ اس لئے راہِ سلامت یہی ہے کہ طلباء کو ان کے اصل نام سے ہی پکارا جائے ۔
 (11) سچ بولے :
Flag Counter