استاذ کو چاہيے کہ وقتاً فوقتاً طالب العلم کے شوق ِ علم کو ابھارتا رہے تاکہ اس کا جذبہ حصول ِ علم سرد نہ پڑ جائے ۔ اس سلسلے میں درجہ میں علم کے فضائل اور اسلاف کے واقعات سنانا بے حد مفید ہے ۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ حصول ِعلمِ دین کے لئے آنے والے طلباء کی بہت بڑی تعداداستقامت سے محروم رہتی ہے اوراکثر طلباء اپنی تعلیم (خصوصاً ابتدائی درجات میں) ادھوری چھوڑ کراپنے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور دیگر کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔اس لئے استاذ کو چاہیے کہ اپنے (بالخصوص ابتدائی درجے کے)طلباء کو استقامت کے فوائد ، عدمِ استقامت کے نقصانات ،استقامت کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا بیان کرے اور انہیں دور کرنے کا طریقہ بتا ئے اور طلباء کواستقامت کے ساتھ حصول ِ علم کی ترغیب دے ۔
فکر ِ آخرت سے غفلت باعث ِ ہلاکت ہے لہذا استاذ گاہے بگاہے طلباء کو فکرِ