اور برادرم قناعت علی رات کے وقت کام کر کے واپس آ نے لگے تواعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے قناعت علی سے ارشاد فرمایا:وہ سامنے تپائی پر کپڑے میں بندھی ہوئی چیز اٹھا لائے ۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ان کو دونوں ہاتھوں میں لے کر میری طرف بڑھے ،میں پیچھے ہٹا ، حضور آگے بڑھے ،میں اور پیچھے ہٹا ،اور آگے بڑھے یہاں تک کہ میں دالان(یعنی صحن) کے گوشہ میں پہنچ گیا۔
حضور نے ایک پوٹلی عطا فرمائی۔میں نے کہا:'' حضور یہ کیا؟'' ارشاد فرمایا:''سوہن حلوہ ہے ۔''میں نے دبی زبان سے نیچی نظر کئے عرض کیا : ''حضور بڑی شرم معلوم ہوتی ہے ۔''فرمایا:''شرم کی کیا بات ہے ؟جیسے مصطفی (یعنی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے شہزادے حضور مفتی اعظم ہند)ویسے تم ،سب بچوں کو حصہ دیا گیا ،آپ دونوں کے لیے بھی میں نے دو حصے رکھ لیے۔'' یہ سنتے ہی برادرم قناعت علی نے آگے بڑھ کر حضور کے ہاتھ سے اپناحصہ خود لے لیااوردست بستہ عرض کیا:''حضور میں نے یہ جسارت اس لیے کی کہ اپنے بزگوں کے ہاتھوں میں چیز دیکھ کر بچے اسی طرح لے لیا کرتے ہیں۔''اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے تبسم فرمایا ۔اس کے بعدہم لوگ دست بوسی کر کے مکان سے چلے آئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور نے ہم لوگوں کو بہت نوازا اور ہم نابکار کچھ خدمت نہ کر سکے۔
(حیات اعلیٰ حضرت ،ج۱، ص ۱۰۹)