Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
29 - 44
طلباء کاامتحان(Test) کس طرح لے ؟
    استاذ کو چاہيے کہ روزانہ سبق سننے کے ساتھ ساتھ سبق کا ایک باب مکمل ہوجانے پر یا ہر ہفتے طلباء کا تحریری یا زبانی امتحان ضرور لیتا رہے تاکہ طلباء کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آسکیں ۔ پھر طلباء کی غلطیوں کی نشان دہی کرے اور انہیں اپنا معیار بلند کرنے کے لئے تجاویز دے۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کرے ۔ ہفتہ وار ٹیسٹ کی برکت سے طلباء کو ادارے کی طرف سے ہونے والے سہ ماہی ،ششماہی اور سالانہ امتحان میں خاص دقّت محسوس نہیں ہوگی ۔ ان شاء اللہ عزوجل

(امتحانات کی تیاری کے سلسلہ میں مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ''امتحانات کی تیاری کس طرح کریں؟'' کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔)
استاذ اور طلباء کے تعلقات کیسے ہوں؟
    استاذ اور طالب العلم کا رشتہ انتہائی مقدس ہوتا ہے۔ لہذا استاذ کو چاہيے کہ اپنے طلباء کی بہتر تربیت کے لئے درج ِ ذیل امور پیش ِ نظر رکھے ۔۔۔۔۔۔
 (1) طلباء کواپنی اولاد کی مثل جانے:
        استاذ روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے لہذا !اسے چاہيے کہ طلباء پر اسی طرح شفقت کرے جس طرح کوئی باپ اپنی حقیقی اولاد پر کرتا ہے ۔امام اہل ِ سنت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن اپنے طلبہ پر کس قدر شفیق تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو :

     مولانا سید ایوب علی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ محلہ قرولان کے ایک مسلمان سوہن حلوہ فروخت کیا کرتے تھے ۔ان سے حضور نے کچھ سوہن حلوہ خرید لیا ۔جب میں
Flag Counter