Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
28 - 44
اصلاح اور نصیحت کے لئے بلاتفریق اجرت وعدم اجرت استاذ کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہیے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے ۔'' (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص۶۵۲رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا ء لاہور) سیدی امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں :'' انسان ہو یا جانور بطور سزا بھی کسی کوسر یا چہرے پر مارنے کی شرعاَ اجازت نہیں بہارشریعت حصہ ۱۶ میں ہے ،''بِلاوجہ جانور کو نہ مارے اور سر یا چہرے پر تو کسی حالت میں بھی ہرگز نہ مارے کہ یہ با لاجماع ناجائز ہے۔'' ( ملفوظات عطاریہ قسط۹ص۳۲امکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)
     واللہ ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلم 

الجواب صحيح                 کتــــــــــبہ     

              محمد شاہد العطاری المدنی 

۱۵ذیعقدۃالحرام ۱۴۲۶ھ۱۷دسمبر ۲۰۰۵؁ء
( یاد رہےکہ تبلیغ ِقرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ''دعوتِ اسلامی ''کے زیرِ انتظام جامعات بنام '' جامعۃ المدینہ ''کے کسی استاذ یا ناظم صاحب وغیرہ کو مجلس ِ جامعات المدینہ کی طرف سے ڈنڈی تو درکنار ہاتھ سے بھی سزا دینے کی اجازت نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ سزادینے والا شرعی اجازت سے تجاوز کرجائے جس کے نتیجے میں مضروب کے اہل ِ خانہ اوردیگرلوگ اس مَدَنی ماحول سے بد ظن ہوجائیں۔لہذا! راہِ سلامت یہی ہے کہ ہاتھ سے سزادینے کی بجائے کوئی دوسری سزا دی جائے مثلاً اسے کھڑا کردیا جائے یا ہاتھ اوپر اٹھوا دیئے جائیں یا زبانی سرزنش پر اکتفاء کر لیا جائے، الغرض طالب العلم کے حسب ِ حال سلوک کیا جائے ۔)
Flag Counter