'یعنی تین مرتبہ سے زیادہ ضربیں لگانے سے پرہیز کرواگرتین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اللہ تعالیٰ تم سے بدلہ لے گا۔(احکام الصغار بحوالہ فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۶۵۲رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا ء لاہور) خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں:
''لایجوز ضرب ولد الحر بامرابیہ ،اماالمعلم فلہ ضربہ لان المامور یضربہ نیا بۃ عن الاب لمصلحتہ وقید ہ الطرسوسی بان یکون بغیرآلۃ جارحۃ ،بان لا یزید علی ثلاث ضربات '' (ردالمحتارج۹ص۶۱۶مکتبہ امدادیہ ملتان )
یعنی ایک آزاد بچے کو باپ کی اجازت سے مارنا جائز نہیں لیکن استاذ تعلیمی مصلحت کے تحت مار سکتا ہے کیونکہ و ہ بچے کو مارنے میں باپ کا نائب ہے امام طرسوسی علیہ رحمۃ القوی نے قید لگائی ہے کہ یہ مارنا زخمی کرنے والے آلہ سے نہ ہویعنی ہاتھ سے ہو اورتین ضربوں سے زیادہ بھی نہ ہو ،سیدی اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں:'' ضرورت پیش آنے پر بقدرِ حاجت تنبیہ ،