Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
27 - 44
کو تادیب کے لئے جسمانی سزا دے سکتاہے یانہیں اگر دے سکتا ہے تو کتنی ؟نیز طریقہ بھی ارشاد فرما دیجیے؟    سائل : مدرس جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی
بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الوہاب اللھم ھدایۃالحق والصواب
    استاذشاگرد کو تادیباَ بقدرِحاجت سزا دے سکتاہے لیکن یہ سزا ہاتھ سے دے اور ایک وقت میں تین ضربوں سے زیادہ نہ مارے نیز چہرے پر مارنے کی ممانعت ہے، رَحمتِ عالَم،نورِمُجَسَّم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے مدرسہ کے معلم سے فرمایا :
'' ایاک ان تضرب فوق الثلث فانک اذاضربت فوق الثلث اقتص اللہ منک ۔'
'یعنی تین مرتبہ سے زیادہ ضربیں لگانے سے پرہیز کرواگرتین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو اللہ تعالیٰ تم سے بدلہ لے گا۔(احکام الصغار بحوالہ فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۶۵۲رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا ء لاہور) خاتم المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں:
''لایجوز ضرب ولد الحر بامرابیہ ،اماالمعلم فلہ ضربہ لان المامور یضربہ نیا بۃ عن الاب لمصلحتہ وقید ہ الطرسوسی بان یکون بغیرآلۃ جارحۃ ،بان لا یزید علی ثلاث ضربات '' (ردالمحتارج۹ص۶۱۶مکتبہ امدادیہ ملتان )
یعنی ایک آزاد بچے کو باپ کی اجازت سے مارنا جائز نہیں لیکن استاذ تعلیمی مصلحت کے تحت مار سکتا ہے کیونکہ و ہ بچے کو مارنے میں باپ کا نائب ہے امام طرسوسی علیہ رحمۃ القوی نے قید لگائی ہے کہ یہ مارنا زخمی کرنے والے آلہ سے نہ ہویعنی ہاتھ سے ہو اورتین ضربوں سے زیادہ بھی نہ ہو ،سیدی اعلیٰ حضرت مجددِ دین وملت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں:'' ضرورت پیش آنے پر بقدرِ حاجت تنبیہ ،
Flag Counter