Brailvi Books

کامیاب استاد كون؟
25 - 44
    (۴) وہ سوال استاذ کا امتحان لینے کے لئے نہ ہو ۔(لیکن اس کی شناخت بے حد مشکل کام ہے کیونکہ یہ قلبی معاملہ ہے،لہذا کسی طالب العلم کو یہ مت کہیں کہ تم میرا امتحان لے رہے ہو؟)
طلباء کو کتنا ہوم ورک دے ؟
     استاذ کو چاہے کہ طلباء کو مناسب ہوم ورک دے ۔اس سلسلے میں دیگر اسباق کو مدِنظر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ طلباء کو ان اسباق کا بھی ہوم ورک کرنا ہوگا ۔ علاوہ ازیں طلباء کو ان کی استعداد کے مطابق ہوم ورک دے مثلاً جن طلباء نے ابھی نحو کے بنیادی قواعد بھی نہ پڑھے ہوں انہیں عربی عبارت کی نحوی ترکیب کرنے کا کام دینا بے فائدہ ہے کیونکہ ایسی صورت حال میں طلباء بڑے درجے کے طلباء یا دیگر اساتذہ سے ترکیب پوچھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔یوں طلباء دیا گیا کام کسی سے پوچھ کرلکھ لاتے ہیں اور سزا سے بھی بچ جاتے ہیں لیکن اس سے ان کی صلاحیتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ استاذ محض ہوم ورک دینے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ اسے دوسرے دن چیک بھی کرے ورنہ طلباء اس کا دیا ہوا ہوم ورک کرنا چھوڑ دیں گے ۔
طلبا سے سبق سننے کا انداز کیسا ہو؟
    طلباء استاذ کے پڑھائے ہوئے سبق سے کماحقہ اسی وقت مستفید ہوسکتے ہیں جب وہ اس سبق کو تکرار کے حلقے میں دہرائیں اور یاد کرکے دوسرے دن استاذ کو سنائیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ استاذ کو معلوم ہو جائے گا کہ طلباء نے کیا سمجھا اور کیانہیں سمجھا ؟ یوں وہ ان کی کمزوریوں کو دور کرسکتا ہے ۔

    دوسرے دن طلباء کا سبق دو طرح سے سنا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    (1) طلبا سے کسی مقام سے عبارت پڑھوائے ، اس کا ترجمہ سنے پھر انہیں اس
Flag Counter